ARTICLE AD BOX
اگر یورپی یونین امریکا میں کاریں اور ٹرک تیار کریں گے تو ان پر کسی قسم کا ٹیرف عائد نہیں ہوگا: امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ سے امریکا درآمد کی جانے والی کاروں اور ٹرکوں پر ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
جمعے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ طے شدہ تجارتی معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث نئی ٹیرف پالیسی نافذ کی جا رہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ ہفتے سے یورپی یونین کی کاروں اور ٹرکوں پر محصولات میں اضافہ کر رہا ہوں، یورپی یونین کی گاڑیوں پر ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں اٹھایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر یورپی یونین امریکا میں کاریں اور ٹرک تیار کریں گے تو ان پر کسی قسم کا ٹیرف عائد نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں اس وقت کئی آٹوموبائل اور ٹرک کے کارخانے زیرِ تعمیر ہیں، ان کارخانوں میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ایک ریکارڈ ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ کارخانے امریکی کارکنوں پر مشتمل ہوں گے، جلد کھول دیے جائیں گے، آج امریکا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت یورپی گاڑیوں اور پرزہ جات پر امریکی ٹیرف 15 فیصد تک محدود کیا گیا تھا جو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم تھا۔ اب اس شرح کو بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز پر بھی تنقید کی ہے اور انہیں یوکرین جنگ کے خاتمے پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے جرمنی کو خاص طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ یورپی یونین کی گاڑیوں کی برآمدات میں اس کا بڑا حصہ ہے۔
دوسری جانب امریکا اور یورپی یونین کے درمیان ٹرن بیری معاہدہ کے نام سے معروف تجارتی فریم ورک گزشتہ سال طے پایا تھا جس کا مقصد باہمی تجارت کو مستحکم بنانا تھا۔ تاہم رواں سال امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد اس معاہدے کی قانونی حیثیت پر سوالات بھی اٹھے ہیں جس کے باعث ٹیرف کی شرح میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
.png)
1 hour ago
2




English (US) ·