ARTICLE AD BOX
صرف 33 فیصد امریکی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں، جو اس تنازع کے آغاز کے بعد سب سے کم سطح ہے: رائٹرز
شائع 28 جولائ 2026 12:55pm
امریکا میں ہونے والے ایک نئے سروے کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے لیے عوامی حمایت مزید کم ہو گئی ہے اور اب صرف ہر تین میں سے ایک امریکی اس جنگ کی حمایت کرتا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز اور عالمی مارکیٹ ریسرچ کمپنی اِپسوس کے مشترکہ سروے میں شامل زیادہ تر افراد کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک یہ واضح نہیں کر سکے کہ امریکا اس جنگ میں کیوں شامل ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں۔
رائٹرز اور اِپسوس کی جانب سے جمعے سے اتوار تک کیے گئے اس آن لائن سروے میں ایک ہزار دو سو چھیالیس امریکی بالغ افراد کی رائے لی گئی۔ نتائج کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں، جو اس تنازع کے آغاز کے بعد سب سے کم سطح ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کی مجموعی عوامی مقبولیت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے اور ان کی منظوری کی شرح 37 فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہے۔
سروے کے مطابق 69 فیصد امریکیوں، جن میں تقریباً 40 فیصد ریپبلکن ووٹرز بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوجی کارروائی کے مقاصد واضح انداز میں بیان نہیں کیے۔
صدر ٹرمپ نے جنگ کے حوالے سے مختلف مواقع پر مختلف اہداف بیان کیے ہیں۔ کبھی انہوں نے کہا کہ امریکا ایرانی عوام کی مدد کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی قیادت کو تبدیل کریں، کبھی ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کرنے کی بات کی، جبکہ بعض مواقع پر انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کو بنیادی مقصد قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے سروے کے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ تبدیل ہوتے رہنے والے رائے عامہ کے سروے دیکھ کر فیصلے نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے پاس ایسا کمانڈر اِن چیف ہو جو ان کی حفاظت کے لیے جرات مندانہ فیصلے کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔
سروے کے مطابق ایران جنگ کے آغاز سے ہی اس کی عوامی حمایت 40 فیصد سے نیچے رہی ہے، جو امریکا کی گزشتہ بڑی جنگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ عراق جنگ کے ابتدائی مہینوں میں تقریباً 70 فیصد امریکی اس کے حامی تھے، جبکہ افغانستان جنگ کے آغاز پر تقریباً 90 فیصد عوام نے جنگ کی حمایت کی تھی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی نومبر میں ہونے والے وسط مدتی کانگریس انتخابات سے پہلے صدر ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ پارٹی کو کانگریس میں اپنی معمولی برتری برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہوگا۔
جارجیا سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ ٹربائن ری پیئر کے ماہر اور سابق میرین اہلکار الیکس وومیک، جو ماضی میں ریپبلکن پارٹی کے حامی رہے ہیں کا کہنا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم نے ایران کے ساتھ جنگ کیوں شروع کی۔ مجھے اس کی کوئی وجہ معلوم نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذاتی طور پر مجھے نہیں لگتا کہ صدر ٹرمپ اس معاملے کو اچھی طرح سنبھال رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اب تک اس تنازع میں 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایران اور لبنان میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جہاں ایران کے حمایت یافتہ جنگجو اسرائیلی افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
جنگ کے باعث امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل فی گیلن پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 3 ڈالر تھی، جو اب بڑھ کر 4 ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے عام امریکیوں پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ریپبلکن سیاسی حکمت عملی کے ماہر اور سابق وائٹ ہاؤس ترجمان الیکس کوننٹ نے کہا کہ یہ صورتحال ریپبلکن پارٹی پر ہر لحاظ سے منفی دباؤ ڈال رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کئی ماہ سے معیشت پر کامیابی کی بات کر رہا تھا، لیکن جب توجہ خارجہ پالیسی اور جنگ پر ہو تو معاشی دلائل دینا مشکل ہو جاتا ہے۔
سروے میں شامل آزاد حیثیت رکھنے والے ووٹرز نے بھی ڈیموکریٹک امیدواروں کو ترجیح دی۔ کانگریس کے لیے 36 فیصد آزاد ووٹرز نے ڈیموکریٹک امیدوار کی حمایت کی، جبکہ صرف 20 فیصد نے ریپبلکن امیدوار کو ترجیح دی۔ معاشی پالیسی کے معاملے میں بھی آزاد ووٹرز نے ڈیموکریٹس پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکا کو طویل جنگوں سے دور رکھیں گے۔ ابتدا میں انہوں نے اندازہ ظاہر کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ چار سے پانچ ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، تاہم تنازع طویل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس جنگ کا موازنہ ویتنام جنگ سے کیے جانے پر بھی ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔
جارجیا کے شہر فیئربرن سے تعلق رکھنے والے آزاد ووٹر ریان اینڈرسن، جنہوں نے 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، کا کہنا ہے، “میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ حکومت پہلے اپنے ملک کے لوگوں پر توجہ دے۔ مجھے معلوم ہے کہ ہمارے اتحادی بھی ہیں، لیکن ہمارے اپنے ملک میں بھی بہت سے لوگ ہیں جنہیں واقعی مدد کی ضرورت ہے۔
رائٹرزاور اِپسوس کے مطابق مارچ کے وسط سے مسلسل کیے جانے والے سرویز میں ایران پر فوجی حملوں کی حمایت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ تازہ سروے میں غلطی کا امکان 3 فیصد بتایا گیا ہے۔
.png)
1 hour ago
1






English (US) ·