Times of Pakistan

فضا کی صفائی کا قدرتی نظام: دھند میں موجود بیکٹیریا زہریلی آلودگی ہضم کرنے لگے

17 minutes ago 1
ARTICLE AD BOX

فضا میں موجود 'فارملڈیہائیڈ' وہ آلودگی ہے جو انسانی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا کرتی ہے اور اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتی ہے۔

دھند کو ہمیشہ سے صرف ایک پراسرار موسمی رجحان سمجھا جاتا رہا ہے جو خاموشی سے پوری فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، لیکن ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق میں اس کے اندر چھپی ایک حیرت انگیز دنیا دریافت کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دھند کے ان ننھے قطروں کے اندر زندگی موجود ہے جو نہ صرف وہاں پروان چڑھ رہی ہے بلکہ انسانی سانسوں کے لیے زہریلی فضائی آلودگی کو ختم کرنے کا کام بھی کر رہی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق دھند کے قطرے دراصل ایک عارضی اور زندہ نظام کے طور پر کام کرتے ہیں جہاں بیکٹیریا کی ایک خاص قسم متحرک رہتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ تھی تھونگ کاؤ اور ان کی ٹیم نے جب خوردبین کی مدد سے ان قطروں کا معائنہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ”میتھائلو بیکٹیریا“ نامی جراثیم ان قطروں میں محض موجود نہیں ہیں بلکہ وہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنی تعداد بڑھا رہے ہیں۔

یہ جراثیم فضا میں موجود ”فارملڈیہائیڈ“ نامی ایک خطرناک زہریلے مادے کو اپنی خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ فارملڈیہائیڈ وہ آلودگی ہے جو انسانی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا کرتی ہے اور اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتی ہے لیکن یہ ننھے جراثیم اس زہریلے مادے کو کھا کر اسے کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل کر دیتے ہیں جس سے ہوا قدرتی طور پر صاف ہو جاتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دھند کے صرف ایک فیصد قطروں میں یہ بیکٹیریا پائے جاتے ہیں لیکن جب ان تمام قطروں کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ان میں جراثیم کی تعداد اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ سمندر کے پانی میں دیکھی جاتی ہے۔

اندازے کے مطابق انگلی کے ایک پور جتنا دھند کا پانی تقریباً ایک کروڑ بیکٹیریا پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ یہ دریافت ان علاقوں کے لیے ایک نئی سوچ پیدا کرتی ہے جہاں لوگ پینے کے لیے دھند کا پانی جمع کرتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ دھند میں زندہ جراثیم موجود ہیں اس لیے اس پانی کو پینے سے پہلے کسی بھی دوسرے پانی کی طرح صاف کرنا اور جراثیم سے پاک کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مطالعہ موسمیاتی سائنس کے روایتی تصورات میں ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، سورج کی روشنی سے ہونے والے کیمیائی عمل کے برعکس یہ خوردبینی جاندار رات کے وقت بھی متحرک رہتے ہیں اور فضا کی کیمسٹری کو تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

تاہم ایک فکر انگیز پہلو یہ بھی ہے کہ اگر انسان بڑے پیمانے پر دھند کا پانی جمع کرنا شروع کر دیں تو کہیں ہم ان مفید جراثیم کو فضا سے ختم تو نہیں کر دیں گے جو خاموشی سے ہماری ہوا صاف کر رہے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی اس پہلو پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ انسانی مداخلت اس قدرتی صفائی کے نظام پر کیا اثرات ڈالے گی۔

Read Entire Article