Times of Pakistan

فٹبال ورلڈ کپ میں اس بار اتنے زیادہ گلابی جوتے کیوں ہیں؟

7 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

فٹبال ورلڈ کپ میں گلابی جوتوں کا راج: شائقین یہ جاننے کے لیے متجسس ہیں کہ آخر یہ نیا رجحان اتنا مقبول کیوں ہو گیا ہے۔

امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں جاری فٹبال ورلڈ کپ کے دوران شائقین کی توجہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی ہی نہیں بلکہ ایک دلچسپ رجحان نے بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچوں میں بڑی تعداد میں کھلاڑی روشن گلابی رنگ کے فٹبال جوتے پہن کر میدان میں اترے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور کھیلوں کے حلقوں میں یہ سوال گردش کرنے لگا کہ آخر اتنے زیادہ گلابی جوتے کیوں نظر آ رہے ہیں۔

ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں ہی یہ رجحان واضح ہو گیا تھا، جب میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے مقابلے میں دونوں ٹیموں کے 22 ابتدائی کھلاڑیوں میں سے صرف تین ایسے تھے جنہوں نے گلابی رنگ کے جوتے نہیں پہنے تھے۔ اس کے بعد بھی تقریباً ہر میچ میں مختلف شیڈز کے گلابی جوتے میدان میں دکھائی دیتے رہے۔

دنیا کے معروف فٹبالرز، جن میں فرانس کے کائلین ایمباپے اور ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ شامل ہیں، بھی اس رجحان کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب نسبتاً چھوٹے فٹبال ممالک جیسے کیپ وردے اور کیوراساؤ کے کئی کھلاڑی بھی اسی رنگ کے جوتوں کے ساتھ میدان میں اترے۔

ماہرین کے مطابق اس رجحان کی بنیاد ورلڈ کپ سے پہلے ہی رکھی جا چکی تھی۔ ایڈیڈاس، نائیک، پوما، نیو بیلنس اور اسکیچرز سمیت کئی معروف اسپورٹس برانڈز نے ٹورنامنٹ سے قبل اپنے نئے فٹبال جوتوں کی رینجز متعارف کروائیں، جن میں نمایاں رنگ گلابی تھا۔ اگرچہ ہر کمپنی نے اپنے رنگ کو الگ نام دیا، لیکن مجموعی طور پر تمام ڈیزائن ایک دوسرے سے کافی مشابہ تھے۔

نیو بیلنس کے فٹبال پروڈکٹس کے سربراہ روب شیلڈن کے مطابق روشن رنگ نہ صرف میدان میں کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کو دیکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ برانڈز کے لوگوز کو بھی لاکھوں ناظرین کی نظروں میں نمایاں بناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں فٹبالرز صرف کھلاڑی نہیں بلکہ خود ایک برانڈ بھی بن چکے ہیں، اس لیے وہ ایسے جوتے پسند کرتے ہیں جو ان کی شخصیت اور انفرادیت کی عکاسی کریں۔

شیلڈن کے مطابق ورلڈ کپ میں دو رجحانات ایک ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ ایک جانب کھلاڑی جدید ترین کارکردگی فراہم کرنے والے جوتے چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ ایسی مصنوعات بھی پسند کرتے ہیں جو ان کی ذاتی شناخت کو ظاہر کریں۔

نائیک کے فٹبال فٹ ویئر ڈویژن کے عہدیدار اوڈنگا نیماکو کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں اور صارفین دونوں کی جانب سے شوخ اور نمایاں رنگوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق گلابی رنگ اعتماد، جرات اور خود اعتمادی کی علامت بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی کھلاڑی اتنا نمایاں رنگ پہنتا ہے تو اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر مکمل یقین رکھتا ہے۔

تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جوتوں کا رنگ کبھی بھی کارکردگی سے زیادہ اہم نہیں ہوتا۔ روب شیلڈن کے مطابق کوئی بھی کھلاڑی صرف رنگ کی وجہ سے ورلڈ کپ کے میدان میں نہیں اترتا بلکہ اس لیے کہ وہ جوتا اسے بہترین کھیل پیش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ رنگ صرف اس پروڈکٹ کا سب سے نمایاں حصہ ہوتا ہے۔

اس رجحان کی ایک اور ممکنہ وجہ فیشن اور صارفین کے رجحانات کا تجزیہ کرنے والی کمپنیوں کی پیش گوئیاں بھی ہیں۔ 2024 میں عالمی ادارے ’ورتھ گلوبل اسٹائل نیٹورک‘ نے 2026 کے لیے جن اہم رنگوں کی پیش گوئی کی تھی، ان میں ”الیکٹرک فوشیا“ نامی رنگ بھی شامل تھا، جو گلابی اور جامنی رنگ کے درمیان ایک شوخ شیڈ سمجھا جاتا ہے۔ ادارے نے اس وقت پیش گوئی کی تھی کہ آنے والے برسوں میں لوگ زیادہ امید، نمایاں شناخت اور خود اظہار کی طرف مائل ہوں گے، اور یہی رنگ ان رجحانات کی نمائندگی کرے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق اب روشن گلابی رنگ فٹبال جوتوں میں استعمال ہونے والے گلابی شیڈز کا تقریباً نصف حصہ بن چکا ہے اور اس کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ’ڈبلیو جی ایس این‘ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید کھیلوں کی دنیا میں رنگ صرف خوبصورتی کے لیے استعمال نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک ثقافتی اور تجارتی پیغام بھی بن چکے ہیں۔

فٹ ویئر ڈیزائنر کرسچین ٹریسر، جو ماضی میں نائیک، ایڈیڈاس اور ریبوک کے ساتھ کام کر چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس لیے بھی پیدا ہوئی کیونکہ مختلف کمپنیاں مارکیٹنگ اور رجحانات کے تجزیے کے لیے تقریباً ایک جیسے ذرائع اور معلومات استعمال کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے خیالات اور ڈیزائن ایک دوسرے سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گلابی جوتوں کی بھرمار کے باعث اب وہ کھلاڑی زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں جو کسی اور رنگ کے جوتے پہن رہے ہیں۔ ارجنٹائن کے لیونل میسی نے الجزائر کے خلاف اپنے ملک کے روایتی ہلکے نیلے اور سفید رنگوں سے مزین خصوصی جوتوں میں تین گول کر کے شائقین کی توجہ حاصل کی، جبکہ امریکی کپتان کرسچن پُلیسک بھی منفرد رنگوں کے جوتوں کے ساتھ میدان میں نظر آئے۔

اس کے باوجود موجودہ ورلڈ کپ میں ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ دنیا بھر کے بیشتر فٹبال ستاروں کے لیے اس بار میدان صرف کھیل کا نہیں بلکہ گلابی رنگ کے اظہار کا بھی مرکز بن چکا ہے۔

Read Entire Article