Times of Pakistan

مذاکرات میں تعطل اور دھمکیاں: امریکا میں پٹرول مہنگا ہونے کا خدشہ، ٹرمپ انتظامیہ پریشان

3 hours ago 4
ARTICLE AD BOX

شائع 29 اپريل 2026 08:18am

مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں ایک بار پھر شدید مشکلات کا شکار ہو گئی ہیں جہاں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔ اس دوران امریکا میں بھی پیٹرول مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس پر ٹرمپ انتظامیہ پریشان ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی وہ تازہ ترین پیشکش مسترد کر دی ہے جس میں تہران نے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کو کچھ عرصے کے لیے موخر کرنے اور اس کے بدلے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر کھولنے کی تجویز دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک اہم ملاقات میں واضح اشارہ دیا کہ وہ ایران کے اس نئے منصوبے کو قبول کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے کیونکہ ایرانی قیادت اس وقت اپنے مستقبل کے حوالے سے بھی شدید دباؤ میں ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس حوالے سے بتایا کہ ایران کی نئی تجاویز پر غور ضرور کیا گیا ہے لیکن صدر ٹرمپ نے اپنی شرائط اور ڈیڈ لائنز سے ایرانی حکام کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ کو اندرونی محاذ پر پریشانی کا سامنا ہے، کیونکہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کا بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھونس، دھمکیوں یا طاقت کے زور پر بین الاقوامی بحری راستوں کو بند کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

اسی طرح وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے والی صنعت تیزی سے تباہ ہو رہی ہے اور وہاں جلد ہی ایندھن کی شدید قلت پیدا ہونے والی ہے۔

ایران کی جانب سے بھی ان دھمکیوں کا بھرپور جواب دیا گیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ آزاد ممالک پر اپنی من مانی پالیسیاں مسلط کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو بالآخر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے اپنے غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات ترک کرنے ہوں گے۔

امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ سمندری ناکہ بندی اور تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے کے بعد ایران اب ٹرینوں کے ذریعے چین کو خام تیل بھیجنے کی متبادل کوششیں کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر ایران تیل کی برآمد کا یہ متبادل راستہ کامیابی سے نہ اپنا سکا تو اسے اپنے تیل کے کنویں مکمل طور پر بند کرنے پڑیں گے جو ایرانی معیشت کے لیے ایک بڑا بحران ثابت ہو سکتا ہے۔

فی الحال دونوں فریقین اپنی اپنی ضد پر قائم ہیں اور خطے میں امن کے بجائے جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

Read Entire Article