ARTICLE AD BOX
نیتن یاہو رواں سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے
واشنگٹن / نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا آتے ہیں تو انہیں کسی بھی صورت گرفتار نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ اس قانونی پہلو کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف کوئی کارروائی کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ’ نیتن یاہو کو امریکا میں کسی بھی شکل میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔‘ انہوں نے نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے قانونی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا نیویارک پولیس کو کسی غیر ملکی رہنما کی گرفتاری کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قانون سے ہٹ کر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے اور صرف وہی کارروائی کریں گے جس کی قانون اجازت دے گا۔ ممدانی نے اس سے قبل بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے نزدیک نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کے باعث ہیگ میں مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بھی میئر ممدانی کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ عدالت جانبدارانہ رویہ اختیار کر رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے بھی اپنے خلاف گرفتاری کی دھمکی کو سنجیدہ خطرہ قرار نہیں دیا اور کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2024 میں کہا تھا کہ اسے ایسے شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد پر اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو رواں سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے، جس کے باعث یہ معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
.png)
16 hours ago
1






English (US) ·