ARTICLE AD BOX
ٹیکسز ختم کردیے جائیں تو پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر سے زیادہ نہیں ہوسکتی، حافظ نعیم الرحمن
فوٹو: جماعت اسلامی فیس بک 
لاہور:
جماعت اسلامی نے مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اس پر عائد لیوی کے خلاف ملک بھر میں شاہراہیں بند کرنے کا اعلان کردیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پوری قوم مشکلات کا شکار ہے۔ جنگ کو بہانہ بنا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف صاحب بتائیں لیوی سمیت دیگر ٹیکسوں کا جنگ سے کیا تعلق ہے؟ اگر ٹیکسز ختم کردیے جائیں تو پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ اب نیا کام یہ شروع کیا کہ پیٹرولیم قیمیتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔ یہ اختیار حکومت نے اوگرا کو دے دیا ہے۔ اس موقع پر حافظ نعیم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف 7 اگست کو ملک بھر کی شاہراہیں بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں پہلے کارنرمیٹنگز اور دھرنے ہوں گے، پھر 7 اگست کو صوبائی دارالحکومتوں میں اہم شاہراہیں بند ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج پرامن ہوگا، اس دوران ایمبولینسز کو راستہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے احتجاج روکنے کی کوشش کی تو حالات حکومت مخالف تحریک کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ اس احتجاج میں تمام مکاتب فکر، تاجروں، صنعتکاروں، وکلا، طلبہ، علما اور نوجوانوں کو شریک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں اور ضلعی ہیڈکوارٹرز میں اہم شاہراہوں پر احتجاج ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ قانون کے مطابق پیٹرولیم لیوی کا اوگرا سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت پیٹرولیم لیوی کی مد میں سالانہ تقریباً 1800 ارب روپے وصول کر رہی ہے ، اس کا بوجھ موٹرسائیکل سواروں، مزدوروں اور متوسط طبقے پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے معاشی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں، ان سے بھی مختلف ذرائع سے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی دفاعی بجٹ کے خلاف نہیں، تاہم ججوں، اعلیٰ فوجی افسران، بیوروکریسی، ارکان اسمبلی اور دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو دی جانے والی مراعات کی مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے اشرافیہ کو مراعات دی جا رہی ہیں جبکہ عام آدمی مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مراکز صحت اور سرکاری اسکول فروخت کیے جا رہے ہیں ۔ ان کے نام تبدیل کر کے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں غربت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ حکومتی ترجیحات عوامی مسائل کے بجائے دیگر منصوبوں پر مرکوز ہیں۔ حافظ نعیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز سے متعلق معاہدوں پر ہونے والی پیش رفت عوام کے سامنے لائی جائے۔ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے ۔ عوام ایسی بجلی کی بھی قیمت ادا کر رہے ہیں جو پیدا ہی نہیں ہو رہی۔ بلوچستان کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت صرف بیرونی ہاتھ کا ذکر کر کے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ اگر بیرونی عناصر ملوث ہیں تو انہیں روکنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل مذاکرات اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نکالا جانا چاہیے، اسی مقصد کے لیے جماعت اسلامی ایک گرینڈ قومی کانفرنس بلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی تنازعات کا حل آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ احتجاج سے اگر کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو ہوتی رہے، جماعت اسلامی عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام ایک بار بھرپور انداز میں میدان میں آ گئے تو حکمرانوں کے لیے اقتدار میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کے بیان پر مسلم لیگ (ن) کو کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے سابق سیاسی اتحادوں، پیپلز پارٹی، مولانا فضل الرحمن، بانی پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی معاملات پر بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
.png)
14 hours ago
2






English (US) ·