Times of Pakistan

چاند کے گرد سفر کے بعد آرٹیمس ٹو کے خلا باز بحفاظت زمین پر واپس

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

شائع 11 اپريل 2026 09:33am

آرٹیمس ٹو مشن کے چاروں خلاباز، خلا میں تقریباً دس دن گزارنے کے بعد جمعہ کے روز بحر الکاہل میں خیریت سے اتر گئے ہیں۔ ناسا کے اس گنبد نما کیپسول کو ’انٹیگریٹی‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ مشن گزشتہ پچاس سال سے زیادہ عرصے بعد انسانوں کا چاند کے قریب جانے والا پہلا سفر تھا، جسے سائنسی دنیا میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

خلائی کیپسول، جسے اورین کہا جاتا ہے، کامیابی کے ساتھ بحرالکاہل میں کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب پانی میں اترا۔ یہ لینڈنگ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر سات منٹ پر ہوئی۔ ناسا کے مطابق خلا باز مکمل طور پر محفوظ رہے اور ان کی حالت تسلی بخش تھی۔

اس مشن کے دوران خلا باز زمین سے تقریباً 2 لاکھ 52 ہزار میل دور تک گئے، جو کہ اب تک انسان کی جانب سے خلا میں طے کی گئی سب سے زیادہ دوری میں سے ایک ہے۔ مجموعی طور پر اس سفر میں تقریباً 7 لاکھ میل کا فاصلہ طے کیا گیا، جس میں زمین کے گرد دو چکر اور چاند کے قریب سے گزرنا شامل تھا۔

جب کیپسول زمین کی طرف واپس آیا تو اس نے آواز کی رفتار سے تقریباً تینتیس گنا زیادہ رفتار سے فضا میں داخلہ لیا۔ اس دوران شدید رگڑ کی وجہ سے کیپسول کے بیرونی حصے کا درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ گیا، جس کے باعث چند منٹ کے لیے رابطہ منقطع ہو گیا۔ تاہم جیسے ہی کیپسول نے رفتار کم کی، پیراشوٹ کھلے اور وہ آہستہ آہستہ سمندر میں اتر گیا۔

سمندر میں اترنے کا منظر ناسا کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھایا گیا جہاں تبصرہ نگاروں نے اسے ایک بہترین لینڈنگ قرار دیا۔

لینڈنگ کے بعد بحریہ کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کیپسول کو محفوظ کیا اور چاروں خلا بازوں کو باہر نکالا۔ انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایک بحری جہاز پر منتقل کیا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام خلا باز صحت مند ہیں اور انہیں مزید معائنے کے لیے جلد ہی ہیوسٹن لے جایا جائے گا، جہاں وہ اپنے خاندانوں سے ملاقات کریں گے۔ ان خلابازوں میں کمانڈر وائزمین کے علاوہ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل تھے۔

یہ مشن یکم اپریل کو فلوریڈا سے لانچ کیا گیا تھا۔ خلا بازوں میں تین امریکی اور ایک کینیڈین شامل تھے۔ اس مشن نے تاریخ بھی رقم کی کیونکہ اس میں پہلی بار ایک سیاہ فام خلا باز، ایک خاتون اور ایک غیر امریکی شہری نے چاند کے مشن میں حصہ لیا۔

آرٹیمس پروگرام کا مقصد آئندہ برسوں میں دوبارہ انسان کو چاند پر اتارنا ہے، جس کی منصوبہ بندی 2028 کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد طویل المدتی ہدف مریخ پر انسانی مشن بھیجنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مشن مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

دنیا بھر میں اس مشن کو بڑی دلچسپی سے دیکھا گیا اور لاکھوں افراد نے اس کی لینڈنگ براہ راست دیکھی۔ اس کامیابی کو سائنسی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کی ایک روشن مثال قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا مختلف سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔

Read Entire Article