Times of Pakistan

چین مصنوعی طریقے سے 'یاک' کے کلون کیوں بنا رہا ہے؟

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

شائع 26 جولائ 2026 03:24pm

دنیا کے بلند ترین پہاڑی علاقوں میں شمار ہونے والے تبت میں چین ایک ایسا سائنسی تجربہ کر رہا ہے جس نے ماہرینِ حیوانات اور سائنس کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ چینی سائنسدان یاک نامی پہاڑی جانوروں کے کلون تیار کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد ایسے یاک پیدا کرنا ہے جو زیادہ مضبوط، صحت مند، بیماریوں سے محفوظ اور سخت موسمی حالات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

یاک تبت کے لوگوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ جانور صدیوں سے وہاں کے مقامی افراد کو دودھ، گوشت، اون اور روزمرہ کاموں میں مدد فراہم کرتے آئے ہیں۔ سخت سردی، کم آکسیجن اور دشوار پہاڑی ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت کی وجہ سے یاک کو تبت کی پہچان بھی سمجھا جاتا ہے۔

چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کلوننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے یاک تیار کیے جا سکتے ہیں جو نہ صرف زیادہ پیداوار دے سکیں بلکہ موسمی تبدیلیوں اور بیماریوں کا بھی بہتر مقابلہ کر سکیں۔

۔

چین کا ”سپر یاک“ منصوبہ

چین نے یاک کی نسل کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑے منصوبے پر کام شروع کیا ہے، جسے عام طور پر ”سپر یاک“ منصوبہ کہا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سائنسدان بہترین خصوصیات رکھنے والے یاک تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق چینی حکومت نے یاک کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے کئی ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ سال 2025 میں چینی سائنسدان پہلی مرتبہ ایک کلون یاک پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے، جسے سائنسی میدان میں اہم کامیابی قرار دیا گیا۔

اس منصوبے کے سائنسی سربراہ فانگ شینگ گو نے چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کو بتایا:

”یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف ایک بار کی کامیابی نہیں رہی بلکہ اب بڑے پیمانے پر استعمال کی طرف بڑھ رہی ہے۔“

چینی سائنسدانوں کا ہدف ہے کہ سال 2028 تک 100 سے زیادہ اعلیٰ معیار کے کلون یاک تیار کیے جائیں۔

جنگلی یاکس کو بچانے کی کوشش

تبت میں یاکس کی دو بڑی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ایک جنگلی یاک ہے، جو قدرتی ماحول میں رہتا ہے اور دوسری گھریلو یاک ہے، جسے انسان اپنی ضروریات کے لیے پالتے ہیں۔

جنگلی یاک اس وقت معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ 30 برسوں میں جنگلی یاکس کی تعداد میں ایک تہائی سے زیادہ کمی آئی ہے اور اب دنیا میں ان کی تعداد تقریباً 10 ہزار سے 20 ہزار کے درمیان رہ گئی ہے۔

۔

چینی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کلوننگ ٹیکنالوجی مستقبل میں نایاب جنگلی یاکس کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ”گولڈن وائلڈ یاک“ نامی نایاب نسل پر توجہ دی جا رہی ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تبت میں اس کے صرف تقریباً 300 جانور باقی ہیں۔

تاہم ابھی تک کسی کامیاب جنگلی یاک کلون کی پیدائش کا اعلان نہیں کیا گیا۔

یاک کی کلوننگ کیسے کی جاتی ہے؟

کلوننگ ایک ایسا سائنسی عمل ہے جس میں کسی جانور کی جینیاتی خصوصیات کی نقل تیار کی جاتی ہے۔ اس عمل میں سائنسدان پہلے ایک صحت مند جانور کا انتخاب کرتے ہیں۔

یاک کے جسم سے ایک خلیہ حاصل کیا جاتا ہے جس میں اس جانور کی جینیاتی معلومات موجود ہوتی ہے۔ اس جینیاتی مواد کو ایک ایسے انڈے میں منتقل کیا جاتا ہے جس کا اپنا جینیاتی مواد پہلے ہی نکال دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد تیار ہونے والے جنین کو ایک مادہ یاک کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں وہ مکمل نشوونما کے بعد پیدا ہوتا ہے۔

چین میں پیدا ہونے والا پہلا کامیاب کلون یاک گھریلو یاک سے تیار کیا گیا تھا۔ یہ ایک سیاہ رنگ کا بچھڑا تھا جس کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہوئی۔ بعد میں کچھ دیگر کلون یاک قدرتی طریقے سے پیدا ہوئے، جنہیں سائنسدان اس منصوبے کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی یاکس کے لیے بڑا خطرہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ یاکس کو صرف معدومیت کا خطرہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی بھی متاثر کر رہی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بدلتے ہوئے موسم اور قدرتی رہائش گاہوں میں تبدیلی ان جانوروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

۔

یاک اون سے مصنوعات بنانے والی ایک تنظیم سے وابستہ کیرول چاؤ، جو نے کہا کہ، ”یہ ایک نازک ماحول ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے شدید موسم پورے ریوڑ کو ختم کر سکتا ہے۔“

ماہرین کے مطابق جنگلی اور گھریلو یاکس کے درمیان نسل کا ملاپ بھی ایک مسئلہ ہے، کیونکہ اس سے جنگلی یاکس کی اصل جینیاتی خصوصیات متاثر ہو رہی ہیں۔

کلوننگ پر اخلاقی سوالات

اگرچہ کچھ سائنسدان کلوننگ کو جانوروں کے تحفظ کے لیے امید کی ایک نئی کرن قرار دے رہے ہیں، لیکن کئی ماہرین اس ٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلوؤں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ماہر حیوانات اور بایوایتھکس کی ماہر لیزا موسز نے کہا کہ، ”میرا خیال ہے کہ اس منصوبے کا مقصد بہت اہم ہے۔“

انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبوں میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا یہ واقعی ماحول کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے، کیا یہ عمل محفوظ ہے اور کیا اس دوران جانوروں کو غیر ضروری تکلیف تو نہیں دی جا رہی۔

لیزا موسز نے مزید کہا:

”تاریخ میں ماحول کے لیے کیے گئے اچھے ارادوں والے کئی منصوبے غلط نتائج کا سبب بن چکے ہیں، اور ان ٹیکنالوجیز میں پہلے سے زیادہ نامعلوم پہلو موجود ہیں۔“

دوسری جانب کچھ ماہرین کلوننگ کے استعمال کے حق میں بھی ہیں۔

سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے بایومیڈیکل اخلاقیات مرکز کے سربراہ جولین ساویلسکو کا کہنا ہے کہ اگر کلوننگ کے ذریعے جانور زیادہ صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں اور انسانوں یا ماحول کو فائدہ پہنچ سکتا ہے تو اس ٹیکنالوجی کا استعمال قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ کلوننگ ایک مکمل خطرے سے پاک عمل نہیں ہے اور بعض اوقات اس سے جینیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

سائنس اور قدرت کے درمیان توازن کا سوال

چین کا یاک کلوننگ منصوبہ سائنس اور قدرت کے درمیان توازن کے ایک بڑے سوال کو سامنے لے آیا ہے۔

اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کلوننگ کے ذریعے نایاب جانوروں کو بچانے اور مقامی لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ قدرتی نظام میں تبدیلی کرنے سے پہلے مکمل تحقیق اور احتیاط ضروری ہے، کیونکہ بعض اوقات انسان کے اچھے ارادے بھی غیر متوقع نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق صرف کلون تیار کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ ان جانوروں کے قدرتی ماحول، صحت اور مستقبل کی نسل کو بھی محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

ابھی تک اس منصوبے کے کئی پہلو واضح نہیں ہیں، جن میں ناکام تجربات، کلون کیے گئے جانوروں کی طویل مدتی صحت اور مستقبل کے اصل مقاصد شامل ہیں۔

آنے والے برسوں میں یہ واضح ہوگا کہ تبت کے یہ مصنوعی طریقے سے تیار کیے گئے یاکس واقعی جانوروں کے تحفظ میں ایک بڑی کامیابی ثابت ہوتے ہیں یا پھر سائنس اور اخلاقیات کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دیتے ہیں۔

Read Entire Article