ARTICLE AD BOX
24 حلقوں میں ہونے والی ووٹنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری، غیر حتمی نتائج آنے کا سلسلہ جاری
اپ ڈیٹ 07 جون 2026 10:10pm
گلگت بلتستان اسمبلی کے چوتھے عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کا پہلا مکمل نتیجہ سامنے آگیا ہے۔ غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق جی بی اے 7 اسکردو ون میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سید توقیر مہدی شاہ امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں۔
گلگت بلتستان میں اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں 24 حلقوں پر 396 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد مختلف پولنگ اسٹیشنوں سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
گلگت بلتستان کے اب تک موصول غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی اس وقت 6 نشستوں پر آگے ہے۔ گلگت، نگر، اسکردو اور شگر میں پیپلزپارٹی کا زور ہے جب کہ گھانچے، غذر اور دیامر کی پانچ نشستوں پر آزاد امیدوار آگے نظر آرہے ہیں۔
گلگت، غذر اور گھانچے کی تین نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ آج نیوز تمام 24 حلقوں سے موصول ہونے والے نتائج کو سب سے پہلے اپنے ناظرین سے شیئر کررہا ہے۔
حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 کے 80 پولنگ اسٹیشنز میں سے 28 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 3600 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق الدین 2300 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 کے 82 پولنگ اسٹیشنز میں سے 42 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد اقبال 5000 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار سید سہیل عباس 3867 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 4 نگر 1 کے 53 پولنگ اسٹیشنز میں سے 46 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 6174 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 5467 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 5 نگر 2 کے 32 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار جہانگیر شاہ 814 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جاوید علی منوا 629 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ کے 88 پولنگ اسٹیشنز میں سے 77 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 5612 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ آزاد امیدوار راجہ نظیم الامین 4540 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1 کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ لے کر کامیاب جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 کے 70 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے محمد کاظم 1228 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 936 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3 کے 54 پولنگ اسٹیشنز میں سے 6 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 967 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 806 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 10 اسکردو 4 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 9 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مشتاق حسین 1059 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان 947 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 11 کھرمنگ کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 10 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 1255 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شجاعت حسین 831 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 12 شگر کے 71 پولنگ اسٹیشنز میں سے 10 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 1541 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے طاہر شگری 875 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 13 استور 1 کے 57 پولنگ اسٹیشنز میں سے 36 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 14 استور 2 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 24 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد فاروق 3390 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون 3383 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1274 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ولی الرحمان 805 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2 کے 42 پولنگ اسٹیشنز میں سے 7 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے عتیق اللہ 1225 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم ليگ (ن) کے محمد انور 867 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 6 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 1306 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار عبدالکریم 803 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 کے 32 پولنگ اسٹیشنز میں سے 5 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان 1256 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 1162 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 کے 78 پولنگ اسٹیشنز میں سے 21 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ظفر محمد 2233 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 2155 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 20 غذر 2 کے 69 پولنگ اسٹیشنز میں سے 20 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار صفدر علی شیرازی 1530 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عبدالجہاں 1504 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 21 غذر 3 کے 60 پولنگ اسٹیشنز میں سے 14 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار امان علی 2040 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد 1788 ووٹ لے کر دوسرے اور پیپلزپارٹی کے محمد ایوب شاہ 1126 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 22 گھانچے 1 کے 58 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 1209 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 945 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 23 گھانچے 2 کے 50 پولنگ اسٹیشنز میں سے 9 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 2474 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جب کہ آزاد امیدوار عبد الحمید 344 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 26 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 4419 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 2830 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات نظر آئے۔ صرف گلگت کے تین حلقوں میں ساڑھے 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا اور ووٹنگ کے عمل کا جائزہ لیا۔
انتخابی مہم کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور سرگرمیاں جاری رکھیں، جن میں جلسے، عوامی رابطہ مہم، وعدے اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی شامل رہا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے ان انتخابات میں سب سے زیادہ یعنی 23 امیدوار کھڑے کیے ہیں، اس کے بعد دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن ہے جس کے 22 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 19 آزاد امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی نے 15، پاکستان نظریاتی پارٹی نے 10 حلقوں سے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اسلامی تحریک پاکستان کے 9، 9 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جب کہ مجلس وحدت مسلمین کے 7 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے 6،6 امیدوار نامزد کیے ہیں جبکہ عوامی ورکرز پارٹی کے 4 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔
انتخابات میں مجموعی طور پر 266 آزاد امیدوار بھی کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ 8 خواتین امیدوار بھی مختلف حلقوں میں انتخابی دوڑ کا حصہ ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے یہ چوتھے عام انتخابات ہیں، جنہیں خطے میں سیاسی استحکام اور عوامی نمائندگی کے تعین کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
.png)
1 hour ago
1





English (US) ·