Times of Pakistan

اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.3 ریکارڈ

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

زلزلے کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

شائع 01 جولائ 2026 11:30pm

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سوات، شانگلہ اور بونیر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جب کہ لوئر دیر اور گردونواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.3 اور گہرائی 174 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جب کہ زلزلے کا مرکز ہندو کش ریجن افغانستان تھا، جہاں سے آنے والے زلزلے پاکستان کے شمالی اور وسطی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

زلزلے کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ افراد کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دفاتر اور عمارتوں سے باہر نکل آئے جب کہ زلزلے کے جھٹکے چند سیکنڈ تک محسوس کیے گئے۔

زلزلے کے باعث فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔

یاد رہے کہ 3 دن پہلے بھی وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی تھی جب کہ زلزلے کا مرکز ہندوکش افغانستان تھا، زلزلے کی گہرائی 191 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے، زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

زلزلہ قشر الارض سے توانائی کے اچانک اخراج کی وجہ سے رونما ہوتا ہے، يہ توانائی اکثر آتش فشانی لاوے کی شکل ميں سطح زمين پر نمودار ہوتی ہے،زیادہ تر زلزلے فالٹ زون میں آتے ہیں، جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی یا رگڑتی ہیں۔

پلیٹوں کے رگڑنے یا ٹکرانے کے اثرات عام طور پر زمین کی سطح پر محسوس نہیں ہوتے لیکن اس کے نتیجے میں ان پلیٹوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ جب یہ تناؤ تیزی سے خارج ہوتا ہے تو شدید لرزش پیدا ہوتی ہے جسے سائزمک ویوز یعنی زلزلے کی لہر کہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔

Read Entire Article