ARTICLE AD BOX
تیز رفتار حملہ آور کشتیوں، بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور دیگر غیر روایتی عسکری وسائل کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے
شائع 24 اپريل 2026 11:11am
امریکی فوجی حکام نے ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز میں ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئے منصوبے تیار کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے خطے میں ممکنہ کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی حکام مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایران کی ان صلاحیتوں کو نشانہ بنانا شامل ہے جو آبنائے ہرمز، جنوبی خلیج عرب اور خلیج عمان میں موجود ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں خاص طور پر ”ڈائنامک ٹارگٹنگ“ پر توجہ دی جا رہی ہے، جس کے تحت ایران کی چھوٹی تیز رفتار حملہ آور کشتیوں، بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور دیگر غیر روایتی عسکری وسائل کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ امریکی فوج پہلے بھی ایران کی بحریہ کو نشانہ بنا چکی ہے، تاہم ابتدائی کارروائیاں زیادہ تر ان اہداف پر مرکوز تھیں جو آبنائے ہرمز سے دور تھے تاکہ ایران کے اندرونی علاقوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ نئے منصوبوں میں اس کے برعکس اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں کے اطراف زیادہ مرکوز بمباری کی حکمت عملی شامل ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’’سی این این‘‘ کے مطابق ایران کے ساحلی دفاعی میزائلوں کی بڑی تعداد اب بھی محفوظ ہے، جبکہ ایران کے پاس بڑی تعداد میں چھوٹی کشتیاں بھی موجود ہیں جنہیں حملوں کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جو امریکی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک اور ممکنہ آپشن یہ بھی زیر غور ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ دھمکی کے مطابق توانائی کے مراکز سمیت دوہرے استعمال (ڈوئل یوز) والے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے، تاکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
مزید برآں، امریکی عسکری منصوبہ ساز ایرانی فوجی قیادت کے بعض افراد اور ان عناصر کو بھی نشانہ بنانے کے امکان پر غور کر رہے ہیں جنہیں امریکی حکام کے مطابق مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے والا سمجھا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جنگ بندی کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے، اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کے عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
.png)
4 hours ago
3




English (US) ·