ARTICLE AD BOX
شائع 09 اپريل 2026 11:47am
واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے عارضی جنگ بندی معاہدے میں ایران کے ساتھ لبنان بھی شامل ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، جنہوں نے اس سیز فائر میں اہم کردار ادا کیا ہے، پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ایران اور امریکا اپنے اتحادیوں سمیت لبنان اور دیگر تمام علاقوں میں فوری جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
لیکن اس اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا، جس کے نتیجے میں لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 254 افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے بھی ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارروائیاں سویلین علاقوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
اس صورتحال پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ثالثوں کے مؤقف کے برعکس دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اس جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔
اسی طرح وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی نظر میں لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور یہ بات تمام متعلقہ فریقوں کو بتا دی گئی ہے۔
تاہم پاکستانی سفیر نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وزیراعظم پاکستان کا بیان حقیقت پر مبنی ہے اور فریقین اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ ایران کے ساتھ ساتھ لبنان میں بھی حملے روکے جائیں گے۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ یہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کس طرح اسرائیل کے اقدامات جنگ بندی کو نقصان پہنچاتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں بھی کئی بار معاہدے توڑے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سخت پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی شرائط واضح ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ اب امریکا کو انتخاب کرنا ہوگا کہ وہ امن چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے امریکا اپنے وعدوں پر کتنا پورا اترتا ہے اور اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے۔
.png)
1 day ago
4




English (US) ·