ARTICLE AD BOX
یہ وہی یورینیم ہے جسے صدر ٹرمپ ایران سے ہٹانے کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے لازمی قرار دے چکے ہیں
شائع 18 اپريل 2026 09:32am
ایک اہم سفارتی پیشرفت میں انکشاف ہوا ہے کہ چین ایران سے افزودہ یورینیم تحویل میں لینے یا اس کی افزودگی کم کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس معاملے پر بیجنگ کے مؤقف سے آگاہ ایک سفارت کار نے بتایا کہ چین تقریباً 970 پاؤنڈ (440 کلوگرام) افزودہ یورینیم کو اپنے قبضے میں لینے یا اس کی افزودگی کو کم کرکے اسے سول مقاصد کے لیے قابلِ استعمال بنانے پر آمادہ ہے۔
یہ وہی یورینیم ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے ہٹانے کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے لازمی قرار دے چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکا خود اس یورینیم کو تحویل میں لے، جو کہ گزشتہ برس جون میں امریکی بمباری سے شدید متاثر ہونے والی ایرانی جوہری تنصیبات کے نیچے موجود ہونے کا خیال کیا جا رہا ہے۔
تاہم چین جو ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کی جانب سے باضابطہ درخواست کی گئی تو وہ اس یورینیم کو لینے یا اس کی افزودگی کو کم سطح تک لانے کے لیے تیار ہے، تاکہ اسے پُرامن اور سول مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
سفارت کار نے حساس نوعیت کے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی۔
یاد رہے کہ 2015 میں جوہری معاہدے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کے تحت ایران نے تقریباً 25 ہزار پاؤنڈ (11 ہزار کلوگرام) کم افزودہ یورینیم روس منتقل کیا تھا، جو اس معاہدے کی ایک اہم شرط کو پورا کرنے کے لیے ضروری تھا۔
.png)
1 week ago
3






English (US) ·