Times of Pakistan

گرمیوں کا بہترین تحفہ ’گل قند‘: ٹھنڈک اور صحت کا انمول خزانہ

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

شائع 10 اپريل 2026 03:07pm

جیسے جیسے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، روایتی طبی نسخوں اور قدرتی غذاؤں کا استعمال بھی بڑھتا جارہا ہے، جن میں گلقند کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

گلاب کی پتیوں اور چینی سے تیار ہونے والا یہ میٹھا اور لاجواب ذائقہ صدیوں سے برصغیر پاک و ہند میں ایک بہترین ’کولنگ ایجنٹ‘ کے طور پر مشہور ہے۔

گھر پر گل قند تیار کرنے کا آسان طریقہ

گلقند تیار کرنا نہایت آسان ہے۔ خوشبودار دیسی گلاب کی پتیاں لے کر انہیں دھوکر اچھی طرح خشک کرلیں۔ ایک شیشے کے برتن میں چینی یا مصری کی برابر تہہ لگائیں۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے اس میں الائچی یا سونف بھی شامل کی جاسکتی ہے۔

جار کو اچھی طرح بند کر کے دو سے تین ہفتوں کے لیے دھوپ میں رکھ دیں۔ چینی پگھل کر پتیوں کے ساتھ مل جائے گی اور ایک گاڑھا، خوشبو دار جام تیار ہو جائے گا۔

گل قند کے 5 حیرت انگیز فوائد

جسم کو ٹھنڈ ک پہنچانے اور لو سے بچاو میں مددگار

گلقند کی سب سے بڑی خوبی اس کی قدرتی ٹھنڈی تاثیر ہے۔ یہ شدید گرمی میں جسم کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے اور گرمی کی شدت سے پیدا ہونے والی تھکن، ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی جیسے مسائل سے بچاتا ہے۔

نظامِ ہاضمہ کے لیے مفید

یہ نظامِ ہضم کے لیے بہترین ہے۔ تیزابیت اور سینے کی جلن کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کا ہلکا سا قبض کشا اثر آنتوں کی صفائی کرتا ہے، اسی لیے یہ بچوں اور بزرگوں دونوں کے لیے موزوں ہے۔

نکھری نکھری صحت مند جلد

گل قند خون کو صاف کرنے اور جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج میں مدد دیتا ہے،جس کے اثرات جلد پر بھی نظر آتے ہیں۔ اس کے استعمال سے جلد صاف، شفاف اور تروتازہ دکھائی دینے لگتی ہے، جبکہ مہاسوں اور بے رونقی میں بھی کمی آ سکتی ہے۔

ذہنی سکون اور بہتر نیند

گلاب کی پتیوں میں موجود قدرتی اجزاء ذہنی دباؤ کم کرنے اور موڈ بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ رات کو دودھ کے ساتھ اس کا استعمال اعصابی نظام کو پرسکون کر کے بہتر نیند لاتا ہے۔

منہ کی صحت کے لیے فائدہ

گلقند منہ کی بدبو کو دور کرنے اور چھالوں کو ٹھیک کرنے میں بھی مددگار ہے۔ اس کی قدرتی مٹھاس اسے مصنوعی ماؤتھ فریشنرز کا ایک بہتر متبادل بناتی ہے۔

گلقند نہ صرف ایک لذیذ میٹھا ہے بلکہ یہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتا ہے۔ خاص طور پر گرمیوں میں اس کا استعمال جسم اور ذہن دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ آپ اسے دودھ میں ملا کر، پان کے ساتھ یا صرف ایک چمچ سادہ بھی کھا سکتے ہیں۔

ذیابیطس کے مریض اس کے استعمال میں احتیاط کریں، کیونکہ اس میں چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

Read Entire Article